8 ستمبر 2013 - 19:30
روسی اور شامی وزرائے خارجہ کی ملاقات، بحران شام کے سیاسی حل پر زور

روس کے وزير خارجہ نے ايک بار پھر اس بات پر زور ديا ہے کہ شام کے بحران کا کوئي فوجي حل نہيں ہے ۔

ابنا: روس کے وزير خارجہ سرگئي لاؤروف نے شام کے وزير خارجہ وليد معلم سے ملاقات ميں، شام کے بحران کے تعلق سے تازہ ترين صورتحال کا جائزہ ليا ۔ انہوں نے اس ملاقات ميں کہا کہ شام کے بحران کا کوئي فوجي حل نہيں ہے ۔روس کے وزير خارجہ نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے لئے سياسي اور سفارتي راستے اختيار کرنے کي ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شام کے تعلق سے ماسکو کا موقف آشکارا اور اصولي ہے جو حالات کے اتار چڑھاؤ سے بدلنے والا نہيں ہے ۔ روس کے وزير خارجہ نے شام کے بارے ميں جنيوا دو کانفرنس جلد از جلد کرائے جانے کي ضرورت پر بھي زور ديا ۔شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے اس ملاقات ميں گروپ بيس کے اجلاس ميں دمشق کي حمايت پر، روس کے صدر ولادي پوتن کے لئے صدر بشار اسد کا شکريئے کا پيغام  روسي وزير خارجہ کو پيش کيا ۔ انہوں نے اسي کے ساتھ جنگ کي مخالف دنيا کي تمام اقوام کا شکريہ ادا کيا ۔ وليد معلم نے ماسکو ميں اپنے روسي ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب ميں کہا کہ وہ امريکا کے عوام  کي ہوشياري کو سراہتے ہيں اور جنگ کي مخالفت پر ان کا شکريہ ادا کرتے ہيں۔شام کے وزير خارجہ نے کہا کہ وہ امن کے لئے دعا کي اپيل پر کيتھولک عيسائيوں کے پيشوا پاپائے روم کا بھي شکريہ ادا کرتے ہيں ۔ انہوں نے اسي کے ساتھ کہا کہ وہ جنگ کي مخالف  دنيا کي تمام اقوام کے شکرگزار ہيں اور خاص طور پر يورپي اقوام کو سيلوٹ کرتے ہيں جو جنگ کي مخالفت ميں مسلسل مظاہرے کررہي ہيں ۔......./169